حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ لَيَتْرُکَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَی خَيْرِ مَا کَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ قَالَ مُسْلِم أَبُو صَفْوَانَ هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ يَتِيمُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَشْرَ سِنِينَ کَانَ فِي حَجْرِهِ
زہیر بن حرب، ابوصفوان، عبداللہ بن عبدالملک، یونس بن یزید، حرملہ بن یحیی، ابن وہب یونس بن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لئے فرمایا کہ لوگ اسے خیر پر ہونے کے باوجود درندوں اور پرندوں کے لئے چھوڑ دیں گے صاحب مسلم فرماتے ہیں کہ ابوصفوان یتیم تھے اور وہاب بن جریج کی گود میں دس سال رہے۔