حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ حَتَّی إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنْ الْبَادِيَةِ بِکَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْکُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ
محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، اسحاق بن منصور، روح ابن عبادہ، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا تو اگر کوئی عورت دیہات سے اپنا کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے پھر نبی کریم ﷺ نے اس کے مارنے سے منع کردیا اور ارشاد فرمایا تم پر سیاہ کتا دو نقطوں والا مارنا لازم ہے کیونکہ وہ شیطان ہے۔