حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوئَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، یزید بن خصیفہ، سائب بن یزید، سفیان بن ابی زہیر صحابی رسول ﷺ ، حضرت سفیان بن ابی زبیر (رض) سے روایت ہے جو شنوئۃ میں سے ہیں کہ جس نے کتا پالا جس سے اس کو نہ کھیتی کا فائدہ ہے اور نہ حفاظت کا تو اس کے عمل سے ہر دن ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت سفیان سے پوچھا کیا آپ ﷺ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ تو فرمایا ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم !۔