حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
محمد بن مثنی، ابن بشار ابوداؤد شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکر شعبہ، عمرو بن مرہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار ہوگئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے تو لوگوں نے ارادہ کیا کہ اس کے بالوں میں جوڑا لگا دیا جائے انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے جوڑا لگانے والی اور جوڑا لگوانے والی پر لعنت فرمائی۔