حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ کُنَّا بِعَرَفَةَ فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَی الْمَوْسِمِ فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَتِ إِنِّي أَرَی اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قُلْتُ لِمَا لَهُ مِنْ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ فَقَالَ بِأَبِيکَ أَنْتَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُهَيْلٍ
عمرو ناقد یزید بن ہارون عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابوسلمہ ماجشون سہیل بن ابی صالح (رض) سے روایت ہے کہ ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) گزرے اور وہ امیر حج تھے تو لوگ انہیں دیکھنے کے لئے کھڑے ہوگئے میں نے اپنے باپ سے کہا ابا جان میرا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے انہوں نے کہا کس وجہ سے ؟ میں نے کہا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ہونے کی وجہ سے تو انہوں نے کہا تجھے تیرے باپ کی قسم تم نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث سنی ہوگی پھر جریر عن سہیل کی طرح حدیث بیان کی۔