حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْکُتُ بِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ مَا مِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنْ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلِمَ نَعْمَلُ أَفَلَا نَتَّکِلُ قَالَ لَا اعْمَلُوا فَکُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی إِلَی قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوسعید اشج وکیع، ابن نمیر، ابی اعمش، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، سعد بن عیبدہ ابوعبدالرحمن سلمی علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ ﷺ زمین کرید رہے تھے آپ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا تم میں سے ہر ایک کا مقام جنت یا دوزخ میں معلوم ہے۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول تو پھر ہم عمل کیوں کریں کیا ہم بھروسہ نہ کریں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ عمل کرو ہر آدمی کے لئے انہیں کاموں کو آسان کیا جاتا ہے جس کے لئے اس کی پیدائش کی گئی ہے پھر آپ ﷺ نے (فَأَمَّا مَنْ أَعْطَی وَاتَّقَی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی) تک تلاوت کی۔