حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ قَالَ کَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ هَجَّرْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ فِي الْکِتَابِ
ابوکامل فضیل ابن حسیں جحدری حماد بن زید ابوعمران جونی عبداللہ بن رباح انصاری حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ نے دو آدمیوں کی آواز سنی جو ایک آیت میں اختلاف کر رہے تھے چناچہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات تھے پھر آپ نے فرمایا تم سے پہلے لوگ کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔