hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 11279

32. حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

مسند احمد

11279
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْتُ أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ قَالَ فَخَرَجَ قَالَ قُلْتُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ فَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وَتْرٍ وَإِنِّي أُنْسِيتُهَا وَإِنِّي رَأَيْتُ كَأَنِّي أَسْجُدُ فِي طِينٍ وَمَاءٍ قَالَ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسَبُهُ قَالَ قَزَعَةً سَمَّى الْغَيْمَ بِاسْمٍ فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ جَرِيدَ النَّخْلِ فَأُمْطِرْنَا فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ وَالْمَاءِ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْنَبَتِهِ تَصْدِيقًا لِرُؤْيَاهُ
ابوسلمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری (رض) کے پاس گیا اور عرض کیا کہ باغ میں چل کر باتیں نہ کریں، وہ چل پڑے، میں نے ان سے عرض کیا کہ شب قدر کے حوالے سے آپ نے نبی ﷺ سے جو کچھ سنا ہے وہ مجھے بھی بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے کا اعتکاف فرمایا : ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ اعتکاف کیا، حضرت جبرائیل ان کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ جس چیز کو تلاش کررہے ہیں وہ آگے ہے۔ (چنانچہ نبی ﷺ نے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا اور اس میں بھی یہی ہوا) جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا جو شخص معتکف تھا وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں ہی رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس وقت آسمان پر دور دور تک بادل نہیں تھے، اچانک بادل آئے، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑگئے ہیں، یہ نبی ﷺ کے خواب کی تصدیق تھی۔