hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 12511

33. حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

مسند احمد

12511
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَهَا ابْنٌ صَغِيرٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ أَحْيَانًا وَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهَا فَتُدْرِكُهُ الصَّلَاةُ فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ وَهُوَ حَصِيرٌ يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت ام سلیم (رض) کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، ان کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اے ابوعمیر ! کیا ہوا نغیر ؟ یہ ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتے تھے، بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا تو حضرت ام سلیم (رض) نبی ﷺ کے لئے جائے نماز بچھا دیتیں جس پر آپ ﷺ پانی چھڑک کر نماز پڑھتے تھے۔