hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 13086

33. حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

مسند احمد

13086
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ وَعُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَسُهَيْلَ بْنَ عَمَرٍو فِي الْآخِرِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَهُمْ يَذْهَبُونَ بِالْمَغْنَمِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَتَّى فَاضَتْ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتِنَا قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَنْتُمْ الشِّعَارُ وَالنَّاسُ الدِّثَارُ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى دِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى قَالَ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَهُمْ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَالَ حَمَّادٌ أَعْطَى مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ يُسَمِّي كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی ﷺ کو عطاء فرمایا اور نبی ﷺ عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے انصاری صحابہ (رض) کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! پھر نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔