hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 13890

34. مکی صحابہ کرام (رض) کی مرویات۔ حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

مسند احمد

13890
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَبَلَغَهُ إِنَّا نَقُولُ لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ فَيَرُوحَ إِلَى مِنًى نَاسٌ مِنَّا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا فَخَطَبَنَا فَقَالَ قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ قَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ فَقَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْدِهِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے ہم یعنی صحابہ نے صرف حج کا احرام باندھا اور چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہوجائیں اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ جب عرفات کا دن آنے میں پانچ دن رہ گئے تو ہمیں حلال ہونے کا حکم دے رہے ہیں تاکہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں گے تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں، نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا تم حلال ہوجاؤ اور اسے عمرہ کا احرام بنالو وہ مزید کہتے ہیں کہ حضرت علی یمن سے آئے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے انہوں نے کہا جس نیت سے نبی ﷺ نے احرام باندھا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر اسی طرح حالت احرام میں ہی رہو۔