hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 14499

34. مکی صحابہ کرام (رض) کی مرویات۔ حضرت صفوان بن امیہ حجمی کی مرویات۔

مسند احمد

14499
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دُفِنَ سَعْدٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ سَبَّحْتَ قَالَ لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کی تدفین ہوچکی تو نبی ﷺ نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہورہی تھی بعد میں اللہ نے اسے کشادہ کردی۔