hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 15507

263. مدنی صحابہ کرام کی مرویات۔ حضرت سہل بن ابی حثمہ کی بقیہ حدیثیں۔

مسند احمد

15507
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ وَلَا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فَرَمَى بِسَبْعٍ وَلَمْ يَقِفْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ
حضرت ام سلیمان بن احوص سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی ﷺ کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگوں ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اسے کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو پھر نبی ﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہاں رکے نہیں نبی ﷺ کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ کے لئے آڑ کا کام کرتا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔