hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 17092

491. حضرت عبدالرحمن بن حسنہ (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

17092
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ فِي الطَّاعُونِ فِي آخِرِ خُطْبَةٍ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا رِجْسٌ مِثْلُ السَّيْلِ مَنْ يَنْكُبْهُ أَخْطَأَهُ وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبْهَا أَخْطَأَتْهُ وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ فَقَالَ شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ إِنَّ هَذَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ
عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ (رض) کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی ﷺ کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص (رض) کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل (رض) کی تصدیق کی) ۔