hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 17220

518. بنودیل کے ایک آدمی روایت

مسند احمد

17220
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَبِي رَمْلَةَ قَالَ حَدَّثَنَاهُ مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ أَوْ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً قَالَ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَلَا أَدْرِي مَا رَدُّوا قَالَ هَذِهِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ
حضرت مخنف بن سلیم (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ ﷺ نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور فرما رہے تھے اے لوگو ! ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے، راوی نے پوچھا جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے ؟ ابن عون کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کیا جواب دیا، بہرحال ! انہوں نے خود ہی فرمایا یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ : ابتداء میں زمانہ جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی، اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا تھا، بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدا الاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔