hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 17646

592. حضرت اسامہ بن شریک (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

17646
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ حَتَّى انْجَلَتْ فَقَالَ إِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَإِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ
حضرت نعمان (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا نبی کریم ﷺ دو رکعت نماز پڑھتے اور لوگوں سے صورت حال دریافت کرتے، پھر دو رکعت پڑھتے اور صورت حال دریافت کرتے حتیٰ کہ سورج مکمل روشن ہوگیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں لوگ کہتے ہیں کہ اگر چاند اور سورج میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے تو وہ اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں یہ دونوں تو اللہ کی مخلوق ہیں البتہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اپنی تجلی ظاہر فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتی ہے۔