hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 19809

799. حضرت ابوزید انصاری کی حدیثیں۔

مسند احمد

19809
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٌٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو رَمْلَةَ عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ رَوْحٌ الْغَامِدِيُّ قَالَ وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ
حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور نبی ﷺ فرما رہے تھے اے لوگو ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے راوی نے پوچھا کہ جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔