hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 20769

848. خارجہ بن صلت رحمتہ اللہ علیہ کی اپنے چچا سے روایت

مسند احمد

20769
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ قَالَ فَلَمَّا وَقَعَتْ الشَّمْسُ دَفْعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ قَالَ رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً نَصَّ حَتَّى مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِي يَزْعُمُ كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهِ فَنَزَلَ بِهِ فَبَالَ مَا يَقُولُ أَهْرَاقَ الْمَاءَ كَمَا يَقُولُونَ ثُمَّ جِئْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ قُلْتُ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ قَالَ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا صَلَّى حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَنَزَلَ بِهَا فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ
حضرت اسامہ (رض) سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم ﷺ کا ردیف تھا جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم ﷺ میدان عرفات سے روانہ ہوئے، اچانک نبی کریم ﷺ کو اپنے پیچھے لوگوں کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے شور کی آوازیں آئیں تو فرمایا لوگو ! آہستہ تم اپنے اوپر سکون کو لازم کرلو، کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے پھر جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم ﷺ اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے، یہاں تک کہ مزدلفہ آپہنچے اور وہاں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔