قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حُدِّثْتُ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ الْوَاقِفِيِّ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي وَاقِفٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ الْأَشْجَعِيُّ
حضرت ابو مالک اشعری (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نبی کریم ﷺ کی طرح نماز پڑھاؤں اور انہوں نے دائیں بائیں سلام پھیرا اور فرمایا کہ یہ ہے نبی کریم ﷺ کی نماز۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔