hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 25988

782. حضرت عمرو بن تغلب (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

25988
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عُدَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ أَثَمَّ أَبُو مُسْلِمٍ قِيلَ نَعَمْ قَالَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْخُذَ نَصِيبَكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ وَتُخِفْ فِيهِ قَالَ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيَّ خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ إِذَا كَانَتْ الْفِتْنَةُ أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَقَدْ اتَّخَذْتُهُ وَهُوَ ذَاكَ مُعَلَّقٌ
عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ان کے گھر بھی آئے اور گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا، والد صاحب نے انہیں جواب دیا، حضرت علی نے ان سے پوچھا ابومسلم آپ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا خیریت سے ہوں حضرت علی نے فرمایا آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی ﷺ نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا جب مسلمانوں میں فتنے رونما ہونے لگیں تو میں لکڑی کی تلوار بنالوں، یہ میری تلوار حاضر ہے، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلنے کو تیار ہوں اور وہ یہ لٹکی ہوئی ہے۔