عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ يَشُکُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا تُبَاعُ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنْ التَّمْرِ يُتَحَرَّی ذَلِکَ وَيُخْرَصُ فِي رُئُوسِ النَّخْلِ وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِيهِ لِأَنَّهُ أُنْزِلَ بِمَنْزِلَةِ التَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ وَالشِّرْکِ وَلَوْ کَانَ بِمَنْزِلَةِ غَيْرِهِ مِنْ الْبُيُوعِ مَا أَشْرَکَ أَحَدٌ أَحَدًا فِي طَعَامِهِ حَتَّی يَسْتَوْفِيَهُ وَلَا أَقَالَهُ مِنْهُ وَلَا وَلَّاهُ أَحَدًا حَتَّی يَقْبِضَهُ الْمُبْتَاعُ
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی عریوں کے بیچنے کی اٹکل سے بشرطیکہ پانچ وسق سے کم ہوں یا پانچ وسق کے اندر ہوں۔ کہا مالک نے عریہ کا اندازہ درختوں پر کرلیا جائے گا اور آنحضرت ﷺ نے اس کو جائز رکھا یہ تولیہ یا اقالہ یا شرکت کے مثل ہے اگر یہ اور بیعوں کے مثل ہوتا تو کھانے کی چیزوں کا تولیہ یا اقالہ یا شرکت قبل قبضے کے نا درست ہے یہ بھی درست نہ ہوتا۔