عَنْ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ يَقُولُ اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ وَابْنُ مُطِيعٍ فِي دَارٍ کَانَتْ بَيْنَهُمَا إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَی الْمَدِينَةِ فَقَضَی مَرْوَانُ عَلَی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِالْيَمِينِ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَحْلِفُ لَهُ مَکَانِي قَالَ فَقَالَ مَرْوَانُ لَا وَاللَّهِ إِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ قَالَ فَجَعَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ وَيَأْبَی أَنْ يَحْلِفَ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ فَجَعَلَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِکَ
ابی غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ زید بن ثابت اور عبداللہ بن مطیع نے جھگڑا کیا ایک گھر میں جو دنوں میں مشترک تھا تو لے گئے مقدمہ مروان بن حکم کے پاس وہ ان دنوں میں حاکم تھا مدینہ کا مروانے فیصلہ کیا اس بات پر کہ زید بن ثابت قسم کھائیں منبر شریف پر زید نے کہا میں اپنی جگہ پر قسم کھاؤں گا مروان نے کہا نہیں وہیں قسم کھاؤ جہاں لوگوں نے قضیے چکتے ہیں تو زید بن ثابت قسم کھاتے تھے میں سچاہوں لیکن منبر پر قسم کھانے سے انکار کرتے تھے اور مروان کو تعجب ہوتا تھا۔