قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَغْتَصِبُ الْمَرْأَةَ بِکْرًا کَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا إِنَّهَا إِنْ کَانَتْ حُرَّةً فَعَلَيْهِ صَدَاقُ مِثْلِهَا وَإِنْ کَانَتْ أَمَةً فَعَلَيْهِ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا وَالْعُقُوبَةُ فِي ذَلِکَ عَلَی الْمُغْتَصِبِ وَلَا عُقُوبَةَ عَلَی الْمُغْتَصَبَةِ فِي ذَلِکَ کُلِّهِ وَإِنْ کَانَ الْمُغْتَصِبُ عَبْدًا فَذَلِکَ عَلَی سَيِّدِهِ إِلَّا أَنْ يَشَائَ أَنْ يُسَلِّمَهُ قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ أَنَّ عَلَيْهِ قِيمَتَهُ يَوْمَ اسْتَهْلَکَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُؤْخَذَ بِمِثْلِهِ مِنْ الْحَيَوَانِ وَلَا يَکُونُ لَهُ أَنْ يُعْطِيَ صَاحِبَهُ فِيمَا اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ وَلَکِنْ عَلَيْهِ قِيمَتُهُ يَوْمَ اسْتَهْلَکَهُ الْقِيمَةُ أَعْدَلُ ذَلِکَ فِيمَا بَيْنَهُمَا فِي الْحَيَوَانِ وَالْعُرُوضِ قَالَ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الطَّعَامِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ فَإِنَّمَا يَرُدُّ عَلَی صَاحِبِهِ مِثْلَ طَعَامِهِ بِمَکِيلَتِهِ مِنْ صِنْفِهِ وَإِنَّمَا الطَّعَامُ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِنَّمَا يَرُدُّ مِنْ الذَّهَبِ الذَّهَبَ وَمِنْ الْفِضَّةِ الْفِضَّةَ وَلَيْسَ الْحَيَوَانُ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ قَالَ مَالِک يَقُولُ إِذَا اسْتُوْدِعَ الرَّجُلُ مَالًا فَابْتَاعَ بِهِ لِنَفْسِهِ وَرَبِحَ فِيهِ فَإِنَّ ذَلِکَ الرِّبْحَ لَهُ لِأَنَّهُ ضَامِنٌ لِلْمَالِ حَتَّی يُؤَدِّيَهُ إِلَی صَاحِبِهِ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو شخص کسی عورت کو غصب کرے بکر ہو یا ثیبہ اگر وہ آزاد ہے تو اس پر مہر مثل لازم ہے اور اگر لونڈی ہے تو جتنی قیمت اس کی جماع کی وجہ سے کم ہوگئی دینا ہوگا اور اس کے ساتھ غصب کرنے والے کو سزا بھی ہوگی لیکن لونڈی کو سزا نہ ہوگی۔ اگر غلام نے کسی کی لونڈی غصب کرکے یہ کام کیا تو تاوان اس کے مولیٰ پر ہوگا مگر جب مولیٰ اس غلام کو جنایت کے بدلے میں دے ڈالے۔ یحییٰ نے نقل کیا کہ کہا مالک نے جو شخص مالک سے بن پوچھے اس کے جانور کو ہلاک کر دے تو اسے دن کی قیمت دینی ہوگی نہ کہ اس کے مانند اور جانو اور اسی طرح مالک کو جانور کے بدلے میں ہمیشہ اسی دن کی قیمت دی جائے گی نہ کہ جانوریہی حکم ہے اور اسباب کا۔ کہا مالک نے البتہ اگر کسی کا اناج تلف کر دے تو اسی قسم کا اتنا ہی اناج دے دے کیونکہ چاندی سونے (جن کا مثل اور بدل ہوا کرتا ہے) کے مشابہ ہے نہ کہ جانور کے۔ کہا مالک نے اگر امانت کے روپوں سے کچھ مال خریدا اور نفع کمایا تو وہ نفع اس شخص کا ہوجائے گا جس کے پاس روپے امانت تھے مالک کو دینا ضروری نہیں کیونکہ اس نے جھ امانت میں تصرف کیا تو وہ اس کا ضامن ہوگیا۔