عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهِيَ عَلَی قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَکَهَا الْإِسْلَامُ وَلَمْ تُقْسَمْ فَهِيَ عَلَی قَسْمِ الْإِسْلَامِ عَنْ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ هَلَکَ وَتَرَکَ أَمْوَالًا بِالْعَالِيَةِ وَالسَّافِلَةِ إِنَّ الْبَعْلَ لَا يُقْسَمُ مَعَ النَّضْحِ إِلَّا أَنْ يَرْضَی أَهْلُهُ بِذَلِکَ وَإِنَّ الْبَعْلَ يُقْسَمُ مَعَ الْعَيْنِ إِذَا کَانَ يُشْبِهُهَا وَأَنَّ الْأَمْوَالَ إِذَا کَانَتْ بِأَرْضٍ وَاحِدَةٍ الَّذِي بَيْنَهُمَا مُتَقَارِبٌ أَنَّهُ يُقَامُ کُلُّ مَالٍ مِنْهَا ثُمَّ يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ وَالْمَسَاکِنُ وَالدُّورُ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ
ثور بن زید ویلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو زمین یا مکان جاہلیت کے زمانے میں تقسیم ہوچکا ہے وہ اسی طور پر رہیگا البتہ جو مکان یا زمین اسلام کے زمانے تک تقسیم نہیں ہوئی تو وہ اسلام کے قاعدوں کے موافق تقسیم ہوگی۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور بارانی اور چاہی زمینیں چھوڑ جائے تو بارانی کو چاہی کے ساتھ ملا کر تقسیم نہ کریں گے بلکہ جدا جدا تقسیم کریں گے۔ (کیونکہ بارانی کا لگان دسواں حصہ اور چاہی کا بیسواں حصہ پیداوار کا) مگر جب سب شریک ملا کر تقسیم کرنے پر راضی ہوجائیں تو ملا کر تقسیم کردیں گے البتہ بارانی اور زیر تالاب یا کاریز کو ملا کر تقسیم کردیں گے۔ (کیونکہ ان کا دھارا ایک ہے یعنی دونوں قسموں کی زمینوں کا لگان پیداوار کا دسواں حصہ ہے اسی طرح اگر کسی قسم کے مال ہوں ایک ہی جگہ اور ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو ہر ایک مال کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کردیں گے مکانوں اور گھروں کا بھی یہی حکم ہے۔