عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ ادْلُلْنِي عَلَی بَعِيرٍ مِنْ الْمَطَايَا أَسْتَحْمِلُ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْتُ نَعَمْ جَمَلًا مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ أَتُحِبُّ أَنَّ رَجُلًا بَادِنًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ غَسَلَ لَکَ مَا تَحْتَ إِزَارِهِ وَرُفْغَيْهِ ثُمَّ أَعْطَاکَهُ فَشَرِبْتَهُ قَالَ فَغَضِبْتُ وَقُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ أَتَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ أَوْسَاخُ النَّاسِ يَغْسِلُونَهَا عَنْهُمْ
اسلم عدوی سے عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ مجھے ایک اونٹ بتادے سواری کا میں اس کو حضرت عمر سے کہہ کر اپنی سواری کے لئے لے لوں گا میں نے کہا اچھا ایک اونٹ ہے صدقے کا عبداللہ بن ارقم نے کہا تمہیں یہ پسند ہے کہ ایک موٹا شخص گرمی کے دنوں میں اپنی شرمگاہ اور چڈ سے دھو کر تمہیں وہ پانی دے اور تو اس کو پی لے، اسلم کہتے ہیں کہ مجھے غصہ آگیا اور میں نے کہا کہ اللہ تمہیں بخشے تم مجھ سے ایسی بات کہتے ہو عبداللہ بن ارقم نے کہا کہ صدقہ بھی لوگوں کا میل ہے اور ان کا دھون ہے