عَمَّنْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّتِي مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَائَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَی فَصَلَّی بِهِمْ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ
روایت ہے اس شخص سے جس نے نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں خوف کی کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے ہوئے نماز کو اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہے تو پہلے آپ ﷺ نے ایک رکعت پڑھی ان لوگوں کے ساتھ پھر آپ ﷺ کھڑے رہے اور وہ لوگ اپنی نماز پوری کر کے چلے گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے وہ آئے ان کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی پھر آپ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے ایک رکعت پڑھی جب آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا