عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ قَالَتْ فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ تَتْبَعُهُ فَتَبِعَتْهُ حَتَّی جَائَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي فَلَمْ أَذْکُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّی أَصْبَحَ ثُمَّ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَی أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ کھڑے ہوئے رسول اللہ ﷺ ایک رات کو اور کپڑے پہنے پھر چلے آپ ﷺ تو کہا میں نے اپنی لونڈی بریرہ سے کہ پیچھے پیچھے جائیے آپ ﷺ کے تو گئی وہ یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع پہنچے اور کھڑے ہوئے قریب اس کے جب اللہ کو منظور تھا آپ ﷺ کا کھڑا رہنا پھر لوٹے آپ ﷺ تو بریرہ آپ ﷺ سے اول میرے پاس پہنچ گئی اور میں نے کچھ ذکر آپ ﷺ سے نہیں کیا یہاں تک کہ صبح ہوئی پھر میں نے ذکر کیا اس کا حضرت سے تو فرمایا مجھے حکم ہوا تھا بقیع والوں کے پاس جانے کا تاکہ دعا کروں ان کے لئے۔