عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَبِرَ حَتَّى كَانَ لَا يَقْدِرُ عَلَى الصِّيَامِ فَكَانَ يَفْتَدِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا وَاشْتَدَّ عَلَيْهَا الصِّيَامُ قَالَ تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
امام مالک کو پہنچا انس بن مالک بوڑھے ہوگئے تھے یہاں تک کہ روزہ نہ رکھ سکتے تھے تو فدیہ دیتے تھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ حاملہ عورت اگر خوف کرے اپنے حمل کا اور روزہ نہ رکھ سکے تو کہا انہوں نے روزہ نہ رکھے اور ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو ایک مد گیہوں دے رسول اللہ ﷺ کے مد سے۔