عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ دَخَلَ عَلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالسُّقْيَا وَهُوَ يَنْجَعُ بَکَرَاتٍ لَهُ دَقِيقًا وَخَبَطًا فَقَالَ هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَنْهَی عَنْ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَلَی يَدَيْهِ أَثَرُ الدَّقِيقِ وَالْخَبَطِ فَمَا أَنْسَی أَثَرَ الدَّقِيقِ وَالْخَبَطِ عَلَی ذِرَاعَيْهِ حَتَّی دَخَلَ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ أَنْتَ تَنْهَی عَنْ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ ذَلِکَ رَأْيِي فَخَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا وَهُوَ يَقُولُ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا
امام محمد باقر سے روایت ہے کہ مقداد بن الاسود آئے حضرت علی کے پاس اور وہ پلا رہے تھے اپنے اونٹ کے بچوں کو گھلا ہو آٹا اور چارہ پانی میں، تو کہا مقداد نے یہاں عثمان بن عفان منع کرتے ہیں قران سے درمیان حج اور عمرہ کے پس نکلے علی اور ان کے ہاتھوں میں آٹے کے نشان تھے سو میں اب تک اس آٹے کے نشانوں کو جو ان کے ہاتھ پر تھے نہیں بھولا اور گئے حضرت عثماں بن عفان کے پاس اور کہا کیا تم منع کرتے ہو قران سے درمیان حج اور عمرہ کے انہوں نے کہا ہاں میرے رائے یہی ہے تو حضرت علی غصے سے باہر نکلے کہتے تھے لبیک اللہم البیک بحجہ وعمرۃ۔