عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَقِيلَ لَهُ قَدْ حَاضَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا إِذًا قَالَ هِشَامٌ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَنَحْنُ نَذْکُرُ ذَلِکَ فَلِمَ يُقَدِّمُ النَّاسُ نِسَائَهُمْ إِنْ کَانَ ذَلِکَ لَا يَنْفَعُهُنَّ وَلَوْ کَانَ الَّذِي يَقُولُونَ لَأَصْبَحَ بِمِنًی أَکْثَرُ مِنْ سِتَّةِ آلَافِ امْرَأَةٍ حَائِضٍ کُلُّهُنَّ قَدْ أَفَاضَتْ
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا صفیہ کا تو لوگوں نے کہا آپ ﷺ سے ان کو حیض آگیا آپ ﷺ نے فرمایا شاید وہ ہمیں روکنے والے ہے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ طواف کر چکیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ نہیں۔ ہشام نے کہا عروہ نے کہا عائشہ نے جب ہم اس کا ذکر کرتے تھے کہ اگر پہلے سے عورتوں کو طواف کے لئے روانہ کردینا مفید نہیں تو لوگ کیوں بھیج دیتے ہیں اور اگر یہ لوگ جیسے سمجھتے ہیں کہ طواف الوداع کے لئے ٹھہرنا لازم ہے صحیح ہوتا تو منیٰ میں چھ ہزار عورتوں سے زیادہ حیض کی حالت میں پڑی ہوتیں طواف الوداع کے انتظار میں۔