عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ أَنْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّی قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ هَذِهِ لَصَلَاةٌ مَا کُنْتَ تُصَلِّيهَا قَالَ إِنِّي بَعْدَ أَنْ تَوَضَّأْتُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ مَسِسْتُ فَرْجِي ثُمَّ نَسِيتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ فَتَوَضَّأْتُ وَعُدْتُ لِصَلَاتِي
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں سفر میں ساتھ تھا عبداللہ بن عمر کے تو دیکھا میں نے جب آفتاب نکلا تو وضو کیا انہوں نے اور نماز پڑھی میں نے کہا کہ آج آپ نے ایسی نماز پڑھی جس کو آپ نہ پڑھتے تھے کہا عبداللہ بن عمر نے کہ آج میں نے وضو کر کے اپنے ذکر کو چھو لیا تھا پھر وضو کرنا بھول گیا اور نماز صبح کی میں نے پڑھ لی اس لئے میں نے اب وضو کیا اور نماز کو دوبارہ پڑھ لیا۔