عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ وَثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ عَلَی صَاحِبِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلًا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا فَقَالُوا نَذَرَ أَنْ لَا يَتَکَلَّمَ وَلَا يَسْتَظِلَّ مِنْ الشَّمْسِ وَلَا يَجْلِسَ وَيَصُومَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرُوهُ فَلْيَتَکَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ
حمید بن قیس اور ثور بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا ہوا دیکھا آپ ﷺ نے اس کا باعث پوچھا لوگوں نے کہا اس نے نذر کی ہے کہ میں کسی سے بات نہ کروں گا نہ سایہ لوں گا نہ بیٹھوں گا اور روزہ سے رہوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو حکم کرو بات کرے، سایہ میں آئے، بیٹھے، روزہ اپنا پورا کرے۔