نَافِعٍ أَنَّ ابْنَةَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأُمُّهَا بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ کَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا فَابْتَغَتْ أُمُّهَا صَدَاقَهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ وَلَوْ کَانَ لَهَا صَدَاقٌ لَمْ نُمْسِکْهُ وَلَمْ نَظْلِمْهَا فَأَبَتْ أُمُّهَا أَنْ تَقْبَلَ ذَلِکَ فَجَعَلُوا بَيْنَهُمْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَضَی أَنْ لَا صَدَاقَ لَهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ فِي خِلَافَتِهِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ أَنَّ كُلَّ مَا اشْتَرَطَ الْمُنْكِحُ مَنْ كَانَ أَبًا أَوْ غَيْرَهُ مِنْ حِبَاءٍ أَوْ كَرَامَةٍ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ إِنْ ابْتَغَتْهُ قَالَ مَالِك فِي الْمَرْأَةِ يُنْكِحُهَا أَبُوهَا وَيَشْتَرِطُ فِي صَدَاقِهَا الْحِبَاءَ يُحْبَى بِهِ إِنَّ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ يَقَعُ بِهِ النِّكَاحُ فَهُوَ لِابْنَتِهِ إِنْ ابْتَغَتْهُ وَإِنْ فَارَقَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَلِزَوْجِهَا شَطْرُ الْحِبَاءِ الَّذِي وَقَعَ بِهِ النِّكَاحُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُزَوِّجُ ابْنَهُ صَغِيرًا لَا مَالَ لَهُ إِنَّ الصَّدَاقَ عَلَى أَبِيهِ إِذَا كَانَ الْغُلَامُ يَوْمَ تَزَوَّجَ لَا مَالَ لَهُ وَإِنْ كَانَ لِلْغُلَامِ مَالٌ فَالصَّدَاقُ فِي مَالِ الْغُلَامِ إِلَّا أَنْ يُسَمِّيَ الْأَبُ أَنَّ الصَّدَاقَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ النِّكَاحُ ثَابِتٌ عَلَى الْابْنِ إِذَا كَانَ صَغِيرًا وَكَانَ فِي وِلَايَةِ أَبِيهِ قَالَ مَالِك فِي طَلَاقِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَهِيَ بِكْرٌ فَيَعْفُو أَبُوهَا عَنْ نِصْفِ الصَّدَاقِ إِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لِزَوْجِهَا مِنْ أَبِيهَا فِيمَا وَضَعَ عَنْهُ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ فَهُنَّ النِّسَاءُ اللَّاتِي قَدْ دُخِلَ بِهِنَّ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ فَهُوَ الْأَبُ فِي ابْنَتِهِ الْبِكْرِ وَالسَّيِّدُ فِي أَمَتِهِ قَالَ مَالِك وَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ وَالَّذِي عَلَيْهِ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك فِي الْيَهُودِيَّةِ أَوْ النَّصْرَانِيَّةِ تَحْتَ الْيَهُودِيِّ أَوْ النَّصْرَانِيِّ فَتُسْلِمُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا إِنَّهُ لَا صَدَاقَ لَهَا قَالَ مَالِك لَا أَرَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ بِأَقَلَّ مِنْ رُبْعِ دِينَارٍ وَذَلِكَ أَدْنَى مَا يَجِبُ فِيهِ الْقَطْعُ
نافع سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن عمر کی بیٹی جن کی ماں زید بن خطاب کی بیٹی تھیں عبداللہ بن عمر کے بیٹے کے نکاح میں آئی وہ مرگئے مگر انہوں نے اس سے صحبت نہیں کی نہ ان کا مہر مقرر ہوا تھا تو ان کی ماں نے مہر مانگا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مہر کا ان کو استحقاق نہیں اگر ہوتا تو ہم رکھ نہ لیتے نہ ظلم کرتے ان کی ماں نے نہ مانا زید بن ثابت کے کہنے پر رکھا زید نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کو مہر نہیں ملے گا البتہ ترکہ ملے گا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عامل کو لکھا کہ نکاح کردینے والا باپ ہو یا کوئی اور اگر خاوند سے کچھ تحفہ یا ہدیہ لینے کی شرط کرے تو وہ عورت کو ملے گا اگر طلب کرے۔ کہا مالک نے جس عورت کا نکاح باپ کر دے اور اس کے مہر میں کچھ حبا کی شرط کرے اگر وہ شرط ایسی ہو جس کے عوض میں نکاح ہوا ہے تو وہ حبا اس کی بیٹی کو ملے گا اگر چاہے۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کرے اور اس لڑکے کا کوئی ذاتی مال نہ ہو تو مہراس کے باپ پر واجب ہوگا اور اگر اس لڑکے کا ذاتی مال ہو تو اس کے مال میں سے دلایا جائے گا مگر جس صورت میں باپ مہر کو اپنے ذمے کرلے اور یہ نکاح لڑکی پر لازم ہوگا جب وہ نابالغ ہو اور اپنے باپ کی ولایت میں ہو۔ کہا مالک نے میرے نزدیک ربع دینار سے کم مہر نہیں ہوسکتا اور نہ ربع دینار کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔