أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أُمِّهِ، «أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ» ؟ قَالَتْ: «فِي الْخِمَارِ، وَالدِّرْعِ السَابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظَهْرَ قَدَمَيْهَا» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، فَإِذَا صَلَّى الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ تَوَشَّحَ بِهِ تَوَشُّحًا جَازَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
عمر بن ابی سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت ام سلمہ کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز ادا فرماتے دیکھا۔ آپ نے اس چادر جسم پر لپیٹ رکھا تھا۔ اور اس کی دونوں اطراف کو کندھوں بر باندھ رکھا تھا۔
قول محمد (رح) یہ ہے ان تمام روایات کو ہم اختیار کرتے ہیں۔ جب آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو خوب لپت کر پڑھے ، یہ درست ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہ قول ہے۔