أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُصَلِّي كُلَّ لَيْلَةٍ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُصَلِّي، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، أَيْقَظَ أَهْلَهُ لِلصَّلاةِ وَيَتْلُو هَذِهِ الآيَةَ: {وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى} [طه: 132] "
اسلم نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب (رض) رات کو جتنی دیر اللہ تعالیٰ چاہتا نماز ادا فرماتے، جب رات کا پچھلا حصہ ہوتا تو پھر اپنے گھر والوں کو نماز کے لیے جگاتے اور ان سے فرماتے، نماز، نماز ( کہ اتھ کر نماز پڑھو، نماز پڑھو) پھر یہ آیت تلاوت فرماتے وامر اہلک بالصلوۃ واصطبر علیہا لا نسئلک رزقا نحن نرزقک والعاقبۃ للتقوی۔ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے رزق نہیں مانگتے ہم ہی تو تمہیں رزق دینے والے ہیں اور اچھا انجام تقوی ( والوں ) کا ہے