أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، «أَنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْبَرِيدُ، فَلا يَقْصُرُ الصَّلاةَ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا خَرَجَ الْمُسَافِرُ أَتَمَّ الصَّلاةَ، إِلا أَنْ يُرِيدَ مَسِيرَةَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ كَوَامِلَ بِسَيْرِ الإِبِلِ، وَمَشْيِ الأَقْدَامِ، فَإِذَا أَرَادَ ذَلِكَ، قَصَرَ الصَّلاةَ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ مِصْرِهِ، وَيَجْعَلَ الْبُيُوتَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع کہتے ہیں ابن عمر (رض) کے ساتھ ایک برید کا سفر کرتا تھا تو عبداللہ اس مسافت میں قصر نہ فرماتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے مسافر جب تین دن کی مسافت ارادہ کرکے نکلے تو قصر کرے گا اور اس رفتار سے پیدل یا اونٹ کی رفتار مراد ہے۔ یہ قصر اپنے شہر سے نکلنے سے شروع ہوجائے گی اور شہر کی آبادی کو پیچھے چھوڑنے پر قصر کرے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔