أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقُولُ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَصَدْرًا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ
ابوسلمہ نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیام رمضان کی ترغیب دلاتے تھے مگر تاکیدی حکم صادر نہ فرماتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے جس نے ایمان و خلوص کے ساتھ قیام رمضان کیا اس کے پہلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں اسی بات پر عمل رہا تاآنکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔ اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں اسی طرح رہا ( اس روایت کو امام مالک نے باب الترغیب فی الصلوۃ فی رمضان میں ذکر کیا ہے)