أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ بِهِمْ: «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ لا يَرَى فِيهَا سَجْدَةً
ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) نے (نماز میں) سورة انشقاق تلاوت فرمایا اور سجدہ کیا اور نماز کے بعد لوگوں کو بتلایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سجد کیا تھا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی قول کو اختیار کرتے ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک اس میں سجدہ کو درست نہیں مانتے۔