أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يُؤْتَى بِنَعَمٍ كَثِيرَةٍ مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ "، قَالَ مَالِكٌ: أُرَاهُ تُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْجِزْيَةِ فِي جِزْيَتِهِمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: السُّنَّةُ أَنْ تُؤْخَذَ الْجِزْيَةُ مِنَ الْمَجُوسِ مِنْ غَيْرِ أَنْ تُنْكَحَ نِسَاؤُهُمْ، وَلا تُؤْكَلَ ذَبَائِحُهُمْ، وَكَذَلِكَ بَلَغَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَضَرَبَ عُمَرُ الْجِزْيَةَ عَلَى أَهْلِ سَوَادِ الْكُوفَةِ، عَلَى الْمُعْسِرِ اثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا، وَعَلَى الْوَسَطِ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَعَلَى الْغَنِيِّ ثَمَانِيَةً وَأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، وَأَمَّا مَا ذَكَرَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمْ يَأْخُذِ الْإِبِلَ فِي جِزْيَةٍ عَلِمْنَاهَا إِلا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ فَإِنَّهُ أَضْعَفَ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةَ، فَجَعَلَ ذَلِكَ جِزْيَتَهُمْ، فَأَخَذَ مِنْ إِبِلِهِمْ وَبَقَرِهِمْ وَغَنَمِهِمْ
اسلم کہتے ہیں کہ عمررضی اللہ عنہ کے پاس جزیہ میں بہت سے اونٹ آتے تھے مالک کہتے ہیں شاید یہ اونٹ اہل جزیہ سے بطور جزیہ وصول کیے جاتے ہوں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : سنت یہ ہے کہ مجوسیوں سے جزیہ تو لیا جائے گا مکر نہ ان کیو عورتوں سے نکاح کیا جائے گا اور نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے گا۔ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت پہنچی اور حضرت عمر (رض) نے اہل کوفہ پر اسی شرح سے جزیہ مقرر فرمایا تھا۔ غریب سے بارہ درہم اور متوسط الحال سے چوبیس درہم اور امیر آدمی سے اڑتالیس درہم۔ باقی رہی وہ بات جو امام مالک (رح) نے ذکر کی ہے کہ اونٹ جزیہ میں آتے ت ہے۔ تو ہمارے علم کے مطابق حضرت عمر (رض) جزیہ میں اونٹ نہ لیتے تھے سوائے ان لوکوں کے جو بنو تغلب سے ہوں ان پر بطو جرمانہ جزیہ دوگنا کردیا گیا تھا۔ پس ان سے جزیہ کو پورا کرنے کے لیے اونٹ، بکرکیاں، گائیں وصول کی جاتی تھیں۔