أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ عِنْدِي، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ «أَحْرَمَ مِنْ إِيلِيَّاءَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، هَذِهِ مَوَاقِيتُ وَقَّتَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَهَا إِذَا أَرَادَ حَجًّا إِلا مُحْرِمًا، فَأَمَّا إِحْرَامُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مِنَ الْفُرُعِ وَهُوَ دُونَ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَإِنَّ أَمَامَهَا وَقْتٌ آخَرُ وَهُوَ الْجُحْفَةُ، وَقَدْ رُخِّصَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُحْرِمُوا مِنَ الْجُحْفَةِ لأَنَّهَا وَقْتٌ مِنَ الْمَوَاقِيتِ
بَلَغَنَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَمْتِعَ بِثِيَابِهِ إِلَى الْجُحْفَةِ فَلْيَفْعَلْ» ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو يُوسُفَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن عمر (رض) نے ایلیا (بیت المقدس) سے احرام باندھا۔ ( اس روایت کو امام مالک نے مواقیت والے باب میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ وہ مواقیت ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقرر فرمائے ہیں۔ ان سے کسی کو آگے گزرنا بغیر احرارم جائز نہیں جب کہ وہ حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔ باقی عبداللہ بن عمر (رض) نے مقام فرع سے احرام باندہا وہ ذو الحلیفہ سے آگے مکہ کی جانب واقع ہے۔ فرع کے سامنے ایک اور میقات جحفہ آتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کو اجازت دی ہے کہ وہ جحفہ سے احرام باندھ لیں ( یا ذو الحلیفہ سے) کیونکہ وہ بھی مواقیت میں سے ایک میقات ہے۔ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص تم میں سے پسند کرے کہ وہ اپنے کپڑون سے جحفہ تک فائدہ حاصل کرے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ اس اثر کو علی بن حسین (رح) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے۔