أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: مَنِ اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فِي شَوَّالٍ، أَوْ فِي ذِي الْقِعْدَةِ، أَوْ فِي ذِي الْحِجَّةِ، ثُمَّ أَقَامَ حَتَّى يَحُجَّ فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، أَوِ الصِّيَامُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، وَمَنْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، ثُمَّ حَجَّ، فَلَيْسَ بِمُتَمَتِّعٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى.
سعید بن المسیب فرماتے ہیں جو حج کے مہینوں میں عمرہ کرے یعنی شوال یا ذیقعدہ یا ذی الحج میں پھر مکہ میں اقامت اختیار کرے یہاں تک کہ وہ حج کرے تو وہ متمتع شمار ہوگا۔ اور اس پر تمتع کی ہدی لازم ہوگئی اور اگر ہدی نہ پائے تو روزے رکھے اور جو شخص اپنے گھر واپس لوت آیا پھر اگرچہ اسی سال حج کیا وہ متمتع شمار نہ ہوگا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم ان تمام کو اختیار کرتے ہیں اور یہ یامام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔