أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ نُفَيْعًا مُكَاتِبَ أُمِّ سَلَمَةَ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، فَاسْتَفْتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ: فَقَالَ: «حَرُمَتْ عَلَيْكَ»
سعید بن مسیب (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) عنہا کا مکاتب جس کا نام نفیع تھا۔ اس کے نکاح میں ایک آزاد عورت تہی اس نے اپنی اس بیوی کے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس سے رجوع کرنا چاہا تو ازواج مطہرات (رض) عنہن نے اسے کہا کہ وہ حضرت عثمان (رض) کے خدمت میں جائے اور مسئلہ دریافت کرے چنانچہ وہ حضرت عثمان (رض) کو مقام درج میں جاکر ملاد جبکہ وہ حضرت زید بن ثابت (رض) کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور ان سے اپنی بیوی کے متعلق دریافت کیا تو دونوں نے فرمایا وہ تجھ پر حرام ہوگئی۔ وہ تجھ پر حرام ہوگئی۔ (یہ اثر امام مالک (رض) نے باب ما جاء فی طلاق العبد میں ذکر کیا ہے)