أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْخَيَّاطُ الْمَدِينِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ثَلاثَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ قَالُوا: " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِامْرَأَتِهِ حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْ حَيْضَتِهَا الثَّالِثَةِ، قَالَ عِيسَى: وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: الرَّجُلُ أَحَقُّ بِامْرَأَتِهِ حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْ حَيْضَتِهَا الثَّالِثَةِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
شعبی (رح) نے تیر (١٣) صحابہ کرام (رض) عنہم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ وہ تمام اس بات کے قائل تھے کہ شوہر اپنی بیوی کو لوٹالینے کا زیادہ حقدار ہے۔ جب تک وہ تیسرے حیض سے پاک ہو کر غسل نہ کرلے۔ راوی عیسیٰ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) کو کہتے سنا کہ مرد اپنی بیوی کو لوٹانے کا زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض سے پاک ہو کر غسل نہ کرلے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور ہمارے امام ابوحنیفہ اور اکثر فقہاء اسی قول کو لیتے ہیں۔