أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَرْسَلَتْ بِهِ وَهُوَ يَرْضَعُ إِلَى أُخْتِهَا أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: «أَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيَّ» ، فَأَرْضَعَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ثَلاثَ رَضَعَاتٍ، ثُمَّ مَرِضَتْ، فَلَمْ تُرْضِعْنِي غَيْرَ ثَلاثَ مِرَارٍ، فَلَمْ أَكُنْ أَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ لَمْ تُتِمَّ لِي عَشْرَ رَضَعَاتٍ
نافع (رح) بیان کرتے ہیں سالم بن عبداللہ نے حضرت عائشہ (رض) عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے اپنی بہن ام کلثوم بنت ابوبکر صدیق (رض) عنہا کے پاس پیغام بھیجا جب کہ میں شیر خوار بچہ تھا کہ وہ مجھے دس بارہ گھونٹ دودھ پلادیں۔ کہ وہ بڑا ہو کر وہ میرے پاس آجاجا سکے تو ام کلثوم (رض) عنہا نے مجھے تین گھونٹ دودھ کے پلائے۔ پھر وہ بیمار ہوگئیں اور تین گھونٹ سے زائد نہ پلاسکیں۔ اس لیے میں حضرت عائشہ (رض) عنہا کے پاس نہ جاسکتا تھا کیونکہ ام کلثوم مجھے دس گھونٹ نہ پلاسکیں تھیں۔