hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 684

.

موطأ الامام محمد

684
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قِيلَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ: إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ، فَدَعَا بِرَاحِلَتِهِ، فَرَكِبَهَا حَتَّى قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ قِيلَ لِي: إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ أَبَا وَهْبٍ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ» ، فَنَامَ صَفْوَانُ فِي الْمَسْجِدِ مُتَوَسِّدًا رِدَاءَهُ، فَجَاءَهُ سَارِقٌ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، فَأَخذَ السَّارِقَ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّارِقِ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ» ، فَقَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا، هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا رُفِعَ السَّارِقُ إِلَى الإِمَامِ، أَوِ الْقَاذِفِ، فَوَهَبَ صَاحِبُ الْحَدِّ حَدَّهُ، لَمْ يَنْبَغِ لِلإِمَامِ أَنْ يُعَطِّلَ الْحَدَّ، وَلَكِنَّهُ يُمْضِيهِ. وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
صفوان بن امیہ (رض) سے کہ گیا کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہوا۔ انھوں نے سواری منگوائی اور سوار ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اور عرض کیا کہ مجھے بتلایا کیا ہے کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہوگیا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے ابو وہب ! مکہ مکرمہ کی پتھریلی زمینوں کی طرف لوٹ جاؤ۔ صفوان مسجد میں اپنی چادر کا تکیہ لگار کر سوگئے۔ ایک چور يیا اور ان کی چار لے کر چل دیا۔ وہ چور کو پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ صفوان نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا مقصد نہ تھا ۔ یہ چار اس پر صدقہ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ میرے پاس آنے سے پہلے یہ کیوں نہ کہا تھا ؟ ( باب ترک الشفاعۃ للسارق میں امام مالک (رح) نے اس روایت کو ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ جب چور یا زنا کی تہمت والا امام یعنی حاکم کے سامنے پیش کردیا جائے۔ اس کے بعد مدعی اگر اپنا دعوی چھوڑے تو امام کے لیے اب گنجائش نہیں ہے کہ وہ حد کو معطل کرے بلکہ وہ حد کو جاری کرے گا۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔