hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 692

.

موطأ الامام محمد

692
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: لَمَّا صَدَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ مِنًى، أَنَاخَ بِالأَبْطَحِ، ثُمَّ كَوَّمَ كَوْمَةً مِنْ بَطْحَاءَ، ثُمَّ طَرَحَ عَلَيْهِ ثَوْبَهُ، ثُمَّ اسْتَلْقَى، وَمدَّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ كَبِرَتْ سِنِّي، وَضَعُفَتْ قُوَّتِي، وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مُضَيِّعٍ، وَلا مُفَرِّطٍ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ سُنَّتْ لَكُمُ السُّنَنُ، وَفُرِضَتْ لَكُمُ الْفَرَائِضُ، وَتُرِكْتُمْ عَلَى الْوَاضِحَةِ، وَصَفَّقَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى، إِلا أَنْ لا تَضِلُّوا بِالنَّاسِ يَمِينًا وَشِمَالا، ثُمَّ إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ، أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: لا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَمْنَا، وَإِنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَكَتَبْتُهَا: «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ» ، فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاهَا. قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: فَمَا انْسَلَخَ ذُو الْحِجَّةِ حَتَّى قُتِلَ عُمَرُ
سعید بن المسیب (رح) کہا کرتے تھے کہ جب حضرت عمر (رض) اپنے آخری سفر حج میں منی سے مقام ابطح میں آئے تو آپ نے اپنے اونٹ کو بٹھایا۔ کنکریوں کا ڈھیر لگار اپنی چادر اس پر پھیلادی اور اس پر خود لیٹ گئے۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلادئیے اور عرض کیا۔ اے میرے اللہ ! میں بوڑھا ہو کیا ہوں۔ میری قوت کمزور ہوگئی ہے اور میری رعایا بہت دور تک پھیل چکی ہے۔ مجھے اپنے پاس اس حال میں بلا لے کہ میں تیرے احکام کو نہ ضائع کرنے والا اور نہ ان میں حد سے گزرنے مالا بنوں۔ پھر يپ مدینہ منورہ تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اے لوگو ! تمہارے لیے طریقے مقرر کیے جا چکے اور فرائض تمہارے ذمے لاگو ہوچکے ہیں۔ میں نے تم کو ایک واضح راستہ پر چھوڑا ہے۔ پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارتے ہوئے فرمایا۔ خبردار ! لوکوں کے ساتھ دائیں بائیں گمراہ نہ ہوجانا۔ پھر فرمایا۔ خبردار ! تم آیت رجم کے متعلق ہلاکت میں مبتلا نہ ہوجانا۔ کہ تم میں سے کوئی شخص یہ کہے کہ ہم کتاب اللہ میں رجم کی آیت نہیں پاتے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور ہم نے رجم کیا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ کہیں کے کہ عمر نے کتاب اللہ میں اضافہ کردیا ہے تو میں اس میں لکھ دیتا ۔ اشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموہما البتہ۔ ہم نے تو اس کو پڑھا ہے۔ سعید بن المسیب (رح) کہتے ہیں کہ اپہی ذو الحجہ کا مہینہ گزرنے نہ پایا تھا کہ حضرت عمر (رض) کو شہید کردیا گیا۔ ( اس روایت کو امام مالک نے معمولی الافظ کے فرق سے باب ما جاء فی الرجم میں ذکر کیا ہے) ۔