أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: قال عُمَرُ، لِسَعْدٍ: قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ سَعْدٌ: أَتَّئِدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.
ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ (رض) کو کہتے سنا کہ عمر (رض) نے سعد (رض) سے کہا : لوگ ہر بات میں تمہاری شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی، سعد (رض) نے کہا : میں پہلی دونوں رکعتوں میں جلد بازی نہیں کرتا ١ ؎ اور پچھلی دونوں رکعتوں میں قرأت ہلکی کرتا ہوں، میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، عمر (رض) نے کہا : تم سے مجھے یہی توقع ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٩٤ (٧٥٥) مطولاً ، ٩٥ (٧٥٨) ، ١٠٣ (٧٧٠) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٤ (٤٥٣) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٣٠ (٨٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٤٧) ، مسند احمد ١/١٧٥، ١٧٦، ١٧٩، ١٨٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرتا ہوں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1002