أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَصَلَاتِهِ، قَالَتْ: مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ، ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا.
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا : تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں ! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٥٥ (١٤٦٦) مطولاً ، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٣ (٢٩٢٣) مطولاً ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٢٦) ، مسند احمد ٦/٢٩٤، ٢٩٧، ٣٠٠، ٣٠٨، وأعادہ المؤلف برقم : ١٦٣٠ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ” یعلی “ لین الحدیث ہیں، دیکھئے إرواء رقم : ٣٤٣ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1022