أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قال: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًافَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا.
رفاعہ بن رافع (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو سمع اللہ لمن حمده کہا، تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے ربنا ولک الحمد حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں جو پاکیزہ و بابرکت ہیں کہا، جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے پوچھا : ابھی ابھی (نماز میں) کون بول رہا تھا ؟ تو اس شخص نے عرض کیا : میں تھا اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا ان میں سے ہر ایک سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے کون پہلے لکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٢٦ (٧٩٩) ، سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٠٥) ، موطا امام مالک/القرآن ٧ (٢٥) ، مسند احمد ٤/٣٤٠، وانظر رقم : ٩٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1062