أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ سُئِلَهَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ.
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک (رض) سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! (پڑھی ہے) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد ؟ رکوع کے بعد ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ٧ (١٠٠١) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٤ (٦٧٧) مختصراً ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٥ (١٤٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٠ (١١٨٤) ، مسند احمد ٣/١١٣، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٦ (١٦٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٤٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور رکوع سے پہلے کی بھی روایت موجود ہے جیسا کہ ابن ماجہ (حدیث رقم : ١١٨٣ ) میں نقنت قبل الرکوع وبعدہ کے الفاظ آئے ہیں اور اس کی سند قوی ہے۔ گویا دونوں طرح جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1071